@herooo_no1
Apr 2026 · 3mo ago
Kyun 🤨🤔 Abdul Kya krdya Maine
میں مگن ہوں اپنی دنیا میں🌺
اور میری دنیا تم فقط تم ہو
Kyun Kisi ko koi masla hai Kya Meri I'd se 🤨🤔
میں مگن ہوں اپنی دنیا میں🌺
اور میری دنیا تم فقط تم ہو🌺
میں مگن ہوں اپنی دنیا میں🌺
اور میری دنیا تم فقط تم ہو🌺
تیری آنکھوں میں اک خاموش کہانی سی ہے،
ہر نظر میں محبت کی نشانی سی ہے۔👀
لفظ خاموش ہیں مگر نگاہیں بولتی ہیں،👀
تیری ہر ادا میں رب کی مہربانی سی ہے۔ 🌿✨
میں نے خود کو شیشے میں دیکھا تو احساس ہوا❤️🩹
واقعی دل دکھنے سے چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے-
ممکن نہیں کہ وہ مجھے بھلا دے گا،
وہ تو ہر پل ہر دم مجھے دعا دے گا..👀
پیار دیا ہے اس قدر اُسکو میں نے، 🎭
کس طرح وہ کسی کو میری جگہ دے گا..👀
Walaikum Salam parriii welcome Meri posts like krdena plzz I'd se
ہم ہیں تیری راہ میں بکھرے ہوئے کانٹے
تو نے دست محبت لگایا بھی تو فقط اٹھا کے پھیکنے کیلئیے۔🍁😓💔
جس چیز کو کھونے کا تمہیں ڈر ہے، اُسے خود چھوڑ دو، تاکہ وہ ڈر تمہاری زندگی پر حکومت نہ کر سکے !❤
مقام محبت کا تونے سمجھا ہی نہیں🌸
جہاں تک تیرا ساتھ وہیں تک میری زندگی🎭
تجھے بھولنے کا باب درج ہی نہیں کہیں،🎭
کھوج ڈالی ہیں میں نے کتابیں ساری۔👁️
چلو ہم چھوڑ دیتے ہیں زمانہ بھی بہانہ بھی
مگر تم سے نہ چھوٹے گا ستانا بھی رلانا بھی🤭
تکلم سے گریزاں ہو سرِ محفل بلا کے کیوں ؟
تمہاری ہی ادائیں ہیں جلانا بھی بجھانا بھی🤭
نئی اپنی کہانی کیسے ہم ترتیب دے ڈالیں 🤭
بھلائیں کیسے وہ قصہ پرانا بھی فسانہ بھی
تمہارے عشق کی باتیں تمہارا دیکھنا ہم کو
ہمیں شاداب رکھتا ہے ہنسانا بھی ستانا بھی
زمانہ وہ محبت کا، لڑکپن کا، وہ خوابوں کا
تمہارے خط کو جب پڑھنا چھپانا بھی جلانا بھی🤭💔👀
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
فیض احمد فیض
دل چاھتا ھے ؛؛؛؛؛؛؛ عشق کو رَد کر دیں۔
تجھ کو بھول جائیں؛یعنی حد کر دیں۔
*
مے کشی کا لطف تنہائی میں کیا، کچھ بھی نہیں
یار پہلو میں نہ ہو جب تک، مزہ کچھ بھی نہیں
تم رہو پہلو میں میرے، میں تمہیں دیکھا کروں
حسرتِ دل اے صنم! اس کے سوا کچھ بھی نہیں
حضرتِ دل کی بدولت میری رسوائی ہوئی
اس کا شکوہ آپ سے اے دلربا!! کچھ بھی نہیں
قسمتِ بد دیکھئے، پوچھا جو اس نے حالِ دل
باندھ کے ہاتھوں کو میں نے کہہ دیا"کچھ بھی نہیں"
آپ ہی تو چھیڑ کر پوچھا ہمارا حالِ دل
بولے پھر منہ پھیر کر "ہم نے سنا کچھ بھی نہیں"
کوچۂ الفت میں انساں دیکھ کر رکھے قدم
ابتدا اچھی ہے اس کی، انتہا کچھ بھی نہیں
(حسین باندی شباب بنارسی)
اِس عمرِ رائیگاں میں ہے یہ بھی بہت مُجھے
کچھ روز تیری سوچ کا محور رہا ہوں میں
ضبط غم نے جسے پلکوں سے نکلنے نہ دیا
اک وہی اشک میرے عشق کا حاصل نکلا
Nice pariiiiii Khush raho