@dhoka
Jul 2026 · 1w ago

میرا ماننا ہے محبت صبر آزما سفر ہے
محبت میں ہمیں کبھی کبھی پیروں کی بجائے دل کے بل بھی چلنا پڑتا ہے۔

بالاہتمام ظلم کی تجدید کی گئی
اور ہم کو صبر و ضبط کی تاکید کی گئی
اول تو بولنے کی اجازت نہ تھی ہمیں
اور ہم نے کچھ کہا بھی تو تردید کی گئی
انجامِ کار بات شکایات پر رکی
پرسش اگرچہ ازرہِ تمہید کی گئی
تجدیدِ التفات کی تجویز رد ہوئی
ترکِ تعلقات کی تائید کی گئی
اپنی زباں سے میں نے کبھی کچھ نہیں کہا
پھر بھی مرے خلوص پر تنقید کی گئی
جینے کا کوئی ایک سہارا تو چاہیے
ڈر ڈر کے کی گئی مگر امید کی گئی
گھر کے چراغ اور بھی بے نور ہو گئے
اس درجہ خاطرِ مہ و خورشید کی گئی

مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے
منفرد ہم غم حالات لیے پھرتے ہیں

سنا تھا کہ فرشتے جان لیتے ہیں
خیر چھوڑو ! اب انسان لیتے ہیں!!!
عشق نے ایسی شناخت بخشی ہے
دُور سے لوگ اب پہچان لیتے ہیں!!!
غربت ہے رقصاں ہماری بستی میں
بیچ کرجسم لوگ سامان لیتے ہیں !!!
دین توبڑی انمول چیز ہے خدا کی
لوگ اسکا بھی اب دان لیتے ہیں !!!
یوں آنکھوں نے لاکھوں میں چُنااُسے
ریت سے ہیرا جیسے چھان لیتے ہیں !!!
اِس شہر منافق سے تنگ آگئی ہوں میں
آو کسی گاؤں میں کچا مکان لیتے ہیں !!!
بخشش جب ہے ترے اختیارمیں خدایا
پھر لوگ کیوں اتنے امتحان لیتے ہیں ۔!!!

میں دشت دشت رُسوا،
تُو سراب سا مُسلسل..
میں لمحہ لمحہ تنہا،
تُو خواب سا مُسلسل..
مشہور ہیں نگر میں
میری تشنگی کے قصے
میں قَریہ قریہ پیـاسا،
تُو آب سا مُسلسل..
میں عکسِ آشنائی،
تُو سراپا دل لگی ہے..
میں خار خار زندگی،
تُو گلاب سا مُسلسل..
میں گلی گلی مسافر،
تیرے قُرب کی دیوانی،
میں کوچہ کوچہ بکھری،
تُو نایاب سا مُسلسل..!

زندگی نے ایک بات سکھائی بر اچھا لگنے والا اچھا نہیں ہوتا۔

مجھے لگا تھا تم مجھے چنو گے
میں نے کہا نا۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگا تھا.....!!

میں نے خود کو شیشے میں دیکھا تو پتہ چلا
دل دکھنے سے چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے۔

ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے
اب نہ کسی کی داد کی خواہش، نہ کسی کی پہچان،
اپنے ہی زخم اوڑھ کے ہم باوقار ہو گئے۔

کچھ نہ کچھ آس دلا دے کے میں پابند رہوں
اب تو گھر والے سوالات عجب پوچھتے ہیں

یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے
کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے🖤✌️

ہر کوئی گلے ملنے والی /والامخلص نہیں ہوتے، بعض منافق پیٹھ پیچھے سے وار کرنے کیلئے گلے ملتے ہیں

شکایتیں بہت ہیں انسان کی فطرت میں...
کل دھوپ سے پریشان تھا آج بارش سے ہے..
🥀🖤🍂

وہ جا رہا ہے بات مقدر پہ ڈال کر
میں کیا کروں بتاو دلِ بےقرار کا،🥀

زندگی اگر خواب ہوئی تو
موت اگر لاجواب ہوئی تو۔۔۔
وہ بولا محبت نہیں تمہیں
میں نے بولا بےحساب ہوئی تو۔۔۔
میں سوچتی ہوں تم آئے ہو
یہ اگر پھر تیری یاد ہوئی تو۔۔۔
یہ جو مسکرا رہی ہوں میں تیرے سامنے
یہ آنکھیں تیرے بعد روئی ہوں تو۔۔۔
وہ بولا کتنا ہی لکھا ہوگا
میں نے بولا پوری کتاب ہوئی تو۔۔
۔
تمہیں یہ فقط شاعری لگی
یہ اگر میرے دل کی آگ ہوئی تو۔۔۔۔

رشتوں کی بقا کے لئے رابطے ضروری ہیں ورنہ نظر انداز کرنے پر تو اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے بھی مرجاتے ہی

بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
اب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے
تقسیم ہو کے رہ گئے صد کرچیوں میں ہم
نامِ وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے
نازک مزاج لوگ تھے ہم جیسے آئینہ
ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کر سکے
خو ش بھی نہ رکھ سکے تجھے ہم اپنی چاہ میں
اچھی طرح سے تجھ کو خفا بھی نہ کر سکے
ایسا سلوک کر! کہ تماشائی ہنس پڑیں
کوئی گلہ گذار، گلہ بھی نہ کر سکے
ہم منتظر رہے، کوئی مشقِ ستم تو ہو
تم مصلحت شناس۔۔۔۔ "جفا" بھی نہ کر سکے!

چُھوڑ کےجانا ہے تو جا۔۔۔!!
پر مات اَدُھوری ثابت کر۔۔۔!!
مُجھ سے جھگڑا کر اور مُجھ کو۔۔۔!!
غیرضروری ثابت کر۔۔۔!!
بات بَجا کہ ہوتے ہیں۔۔۔!!
دوچار مسائل سب کے ہی۔۔۔!!
جانتا ہوں مجبوری کو لیکن۔۔۔!!
مجبوری تو ثابت کر۔۔۔!!
بحث نہیں بنتی دُونوں کی۔۔۔!!
پھر بھی اے بُہْتان پَرَست۔۔۔!!
جتنی باتیں گھڑ رکھی ہیں۔۔۔!!
ایک تو پوری ثابت کر۔۔۔❤️

اک سانحہ سا دفن ہوں۔۔۔۔ لیکن کبھی کبھی
صدیوں کی قبر سے بھی اٹھایا گیا ہوں میں

مرد ہر حال میں مجرم ہوتا ہے
روئے تو کمزور چپ رہے تو بزدل لڑے تو بدتمیز..!!
مجبوریوں کا بہانا بنا کر کچھ لوگ
محبتوں سے کھیل جاتے ہیں 😔🥀
آدم ذاات

یہ ضروری تو نہیں کہ مجھے زہر پلایا جائے
عین ممکن ہے ! کسی پھول سے مارا جاؤں