@dewanaapan.444
Apr 2026 · 3mo ago

Kuch nahi Asad

Assalam u Alaikum

گیا رقِیب کے گھر بارہا شبِ وعدہ
بہت ذلیل مجھے تیری جستجو نے کیا

گر لاکھ بار آئے زمانہ بہار پر
ہر بار صدقے کیجیے رُخسارِ یار پر
آنے کا وعدہ اُن کے نہ آنے کی تھی دلیل
آخر کھُلی یہ بات بڑے انتظار پر

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا!

یہ جو پیاس کی ہے شدت، ہے یہی عطائے صحرا
جو پڑے گلے میں کانٹے، یہی فصلِ تشنگی ہے
وہ گھنیری پلکیں اب بھی، شب و روز بھیگتی ہیں
جہاں یاس جاگتی ہے، جہاں آس سو گئی ہے
جو چراغ بجھ گیا ہے، سرِ شام میرے گھر کا
اُسے کیا خبر ہے پوری مجھے رات کاٹنی ہے
شب و روز ہی پریشاں، ہے عبید آج انساں
یہ جو مرگ ہر نفس ہے، یہی مرگِ زندگی ہے

ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر
بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں
ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے
وا کر سکا مگر لبِ گویا نہ تو نہ میں
نوحے فصیلِ ضبط سے اونچے نہ ہو سکے
کھل کر دیارِ سنگ میں رویا نہ تو نہ میں

سانس چلتی ہے جان باقی ہے
عشق کا امتحان باقی ہے
پر شکستہ نہ جانئے صاحب
حوصلوں کی اڑان باقی ہے
آخری تیر بھی ہے ترکش میں
ہاتھ میں بھی کمان باقی ہے
پاؤں کے نیچے ہے زمیں اب تک
سر پہ بھی آسمان باقی ہے

جو بھی مانگو ادھار دوں گا میں
اس گلی میں دکان کر لی ہے
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اس میں شراب بھر لی ہے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حالت تباہ کر لی ہے
شیخ آیا تھا محتسب کو لیے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے

آخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے
دن بھلا کس طرح گزارو گے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے
جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سپر لی ہے

جب تارے ابر میں کھو جائیں
اور جگنو سارے سو جائیں
جب چاند کا غازہ بہہ جائے
جب رات کی خالی بانہوں میں
جب شہر کی ویراں راہوں میں
سناٹا تنہا رہ جائے
تب گھر کے خالی آنگن میں
یخ بستہ آہنی کرسی پر
ہاتھوں میں اٹھا کر حرفِ دعا
چپ چاپ اکیلا بیٹھوں گا

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر
اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر
آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہو
چلتے چلتے رک جاتا ہوں ساڑھی کی دوکانوں پر
برکھا کی تو بات ہی چھوڑو چنچل ہے پروائی بھی
جانے کس کا سبز دوپٹا پھینک گئی ہے دھانوں پر
شہر کے تپتے فٹ پاتھوں پر گاؤں کے موسم ساتھ چلیں
بوڑھے برگد ہاتھ سا رکھ دیں میرے جلتے شانوں پر

مطلب ہی اب نہیں کسی بات سے مجھے
اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں
انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر
آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں
ہم جھولیوں کو اپنی با سوزِ تصورات
ماضی کا وقت سنایا کروں گی میں
حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال
دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں
شکلین بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ
شکلین مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں

اُن کا جواب
جب آپ کو قریب نہ پایا کروں گی میں
رُوٹھوں گی خود سے، خود کو منایا کروں گی میں
اب میرے آنسوؤں کی پناہیں نہیں رہیں
اب اپنے آنسوؤں کو چھپایا کروں گی میں
رخصت ہوا ہے صبحِ محبت کا کارواں
اب کس کے پاس شام کو جایا کروں گی میں
ہاں وہ شرارتوں کے زمانے گزر گئے
اب حسرتوں کے داغ اُٹھایا کروں گی میں

ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺠﮭﯿﮟ ﮔﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ
ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﭘﮭﺮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯿﮕﯽ
ﺩِﻝ ﺳﮯ ﻣﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮬﭩﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﺣﺎﻻﺕِ ﻧﻮ ﺑﮧ ﻧﻮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮬُﺠﻮﻡ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺷﺶ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯽ ﮐﻮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩِﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻠﺶ ﮬﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
" ﻧﻘﺶِ ﮐُﮩﻦ " ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣِﭩﺎﻧﺎ ﮬﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ
ﮔﺰﺭﮮ ﮬُﻮﺋﮯ ﺩِﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭُﻼﻧﺎ ﮬﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ

ﺍﺏ " ﻟﺬﺕِ ﺳﻤﺎﻋﺖِ ﺭﮬﺮﻭ" ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ
ﺍُﻭﻧﭽﮯ ﺳُﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺖ ﻧﮧ ﮔﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﮬﻤﺠﻮﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺴﻮﺯِ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ
ﻣﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺳُﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ
ﭼﻮﻧﮑﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ، ﮐِﺴﮑﻮ ﮈﺭﺍﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ؟
ﻓﺮﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭِ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯿﮕﺎ
ﻣِﻠﻨﮯ ﺳﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ

ﺷﺎﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ ؟
ﺭُﻭﭨﮭﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ؟ ﮐﺲ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ؟
ﻭﮦ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮬﮯ ﺻُﺒﺢِ ﻣُﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺍﮞ
ﺍﺏ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ "ﺧﻮﺩ ﭘﺮﺳﺖ" ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺁﭘﮑﻮ
ﮐِﺲ " ﺑﮯ ﻭﻓﺎ " ﮐﮯ ﻧﺎﺯ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ
ﺷﮑﻠﯿﮟ ﻣِﭩﺎ ﻣِﭩﺎ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
ﮔﻤﻨﺎﻡ ﺍﻟﺠﮭﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔُﺰﺍﺭﯾﮟ ﮔﯽ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ
ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯽ ﮐﻮ ﺟﻼﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ

یہ مہر و ماہ، ارض و سما مجھ میں کھو گئے
اِک کائنات بن کے ابھرنے لگا ہوں میں
اتنوں کا پیار مجھ سے سنبھالا نہ جائے گا
لوگو! تمہارے پیار سے ڈرنے لگا ہوں میں
دِلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں
گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں

اے دردِ عشق! تجھ سے مکرنے لگا ہوں میں
مجھ کو سنبھال! حد سے گزرنے لگا ہوں میں
پہلے حقیقتوں سے ہی مطلب تھا اور اب
ایک آدھ بات فرض بھی کرنے لگا ہوں میں
ہر آن ٹوٹتے عقیدوں کے یہ سلسلے
لگتا ہے جیسے آج بکھرنے لگا ہوں میں
اے چشمِ یار! میرا سُدھرنا محال تھا
تیرا کمال ہے کہ سُدھرنے لگا ہوں میں

جب وہ بھر بھر کے لٹاتا رہا اوروں پہ خلوص
ہم تہی دست عنایات کا مطلب سمجھے
اب کسی اور طرف بات گھمانے والے
میں سمجھتی ہوں تری بات کا مطلب سمجھے
تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے ترا اپنا کوئی
تو بھی اک روز مکافات کا مطلب سمجھے

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے
چاند روٹھا تو سیہ رات کا مطلب سمجھے
اس پہ اترے تھے محبت کے صحیفے لیکن
ایک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے
کون رہ رہ کے وفاؤں کو نبھانا سیکھے
کون فرسودہ روایات کا مطلب سمجھے
اس سے پہلے تو دعاؤں پہ یقیں تھا کم کم
تو نے چھوڑا تو مناجات کا مطلب سمجھے

فکر اس کو اگر مری ہوتی
دور جانے کی بات کیوں کرتی
میرے نادار دل کے حصّے میں
غم کے لمحے ثبات، کیوں کرتی
تم نہ جاتے تو زندگی کاشف
رنج اور غم کی بات کیوں کرتی

زخم گر دل کے بھر گئے ہوتے
پھر نمائش کی بات کیوں کرتی
وہ محبت کا گر سمندر تھی
بوند بھر التفات کیوں کرتی
فکر اس کو اگر مری ہوتی
دور جانے کی بات کیوں کرتی

حق ہمارا بھی گر خوشی پر تھا
دن ہمارے وہ رات کیوں کرتی
زندگی، جان سے گزرنے پر
آزمائش کی بات کیوں کرتی
ملتا پرتَو بھی اُس تلوّن کا
عقل پھر دل کو مات کیوں کرتی

اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی
تنگ مجھ کو حیات کیوں کرتی
تم جو ہوتے تو زندگی ہم سے
تلخ لہجے میں بات کیوں کرتی
منتشر کر کے دل کی بستی کو
مسکرانے کی بات کیوں کرتی