ہم ہو چُکے ہیں ہجر کی لذّت سے آشنا اب آپ ہم سے وصل کی باتیں نہ کیجِیے عاشق مزاج لوگ ہیں سو دل کے ہیں غُلام ہم سَر پِھروں سے عقل کی باتیں نہ کیجِیے