← Back
🌍 GENERAL
1d ago

Last seen 3 hours ago
کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دل
کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں
لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں
دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک
ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں
اس بے وفا پہ بس نہیں چلتا تو کیا ہوا
اڑتی رہیں گی اپنے گریباں کی دھجیاں
ہم خود ہی کرتے رہتے ہیں فتنوں کی پرورش
آتی نہیں ہے کوئی بلا ہم پہ ناگہاں
ابنِ صفّی