
میں بطورِ مرد
میں بیٹا ہوں مجھے اچھا لگتا ہے جب مجھے کسی غلطی پر "امی" ڈانٹتی ہیں... میں "ان" سے مار بھی کھاتا ہوں اور پھر ان کے پاؤں میں گِر کر معافی بھی مانگتا ہوں...
مجھے اچھا لگتا ہے جب سخت جاڑے میں گرم بستر سے اٹھا کر میری بہن مجھے حکم دیتی ہے کہ جاؤ میرے لیے مارکیٹ سے "سموسے" لے کر آؤ....
بہن جب کسی چیز کی فرمائش کرتی ہے تو واللہ جی چاہتا ہے زمین کی چھاتی چیر کر اس کی فرائش اس کے قدموں میں دھر دوں...
بطورِ شوھر میں ہمیشہ ایسی بیوی چاہتا ہوں جس کو میرے ہونے سے اپنے ہونے کا احساس ہو
میرے صبح گھر سے نکلنےسے لےکر شام واپس آنے تک میرے لیے اپنے ہونٹوں پر دعائیں ہوں
جس کو لگے کہ میں اس کا سب سے زیادہ محافظ ہوں اُس کی دنیا ہوں
میں ہمیشہ ایسی بیٹی کا والد بننا چاہوں گا جو مجھ پر حاکمہ ہو، میری اصلاح کرے، کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، کہاں جانا ہے، کہاں نہیں جانا سب اختیار اس کے پاس ہو...
ہم مشرقی مرد کبھی رشتوں کی "قید" سے آزادی نہیں
چاہتے... ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عورتیں ہم پر "حکمران"
ہوں.... ہاں یہ سچ ہے کہ ہم غیرت کے نام پر جان لے بھی لیتے ہیں اور دے بھی دیتے ہیں کیونکہ ہمارے تنگ دامن میں سوائے "عزت" کے اور کوئی دولت نہیں ہوتی...
ہم تمام عمر اپنے حقوق سلب کر لیتے ہیں تاکہ خود سے متعلقہ عورت کے حقوق پورے کر سکیں....
ہم 500 کی دیہاڑی میں اچھا کھانا کھا سکتے ہیں لیکن آٹھ آٹھ گھنٹے اوور ٹائم لگاتے ہیں کیونکہ کزن کی شادی میں بیوی کو 3000 ہزار والا سوٹ لے کر دینا ہوتا ہے....
ہم کہیں ہاتھوں پر نمکو کا تھال لیے، کہیں کندھے ہر بنیانیں لٹکائے، کہیں سبزی کی ریڑھی لگائے عجیب عجیب طریقے اپنا رہے ہوتے ہیں تاکہ زیادہ گاہک متوجہ ہوں اور شام کو بچوں اور بیوی کےلیے اچھا کھانا لے کر جائیں....
ہم مرد "سیر" ہوتے ہیں لیکن ایک "چھٹانک" رہ جاتے ہیں جب بیٹی کی خاطر کسی در سے بےعزت ہو کر نکلتے ہیں..
اور ستم کے لبوں سے "اف" تک نہیں کر پاتے....
ہم آٹھ سال کے "گاڑیوں" اور "موٹر سائیکلوں" کے نیچے لیٹ کر چہرے سمیت سیاہ ہوئے پڑے ہوتے ہیں تاکہ ماں، بہن بیٹی کو اجلا لباس پہنا سکیں...
ہم مشرقی مرد اپنی عورت کےلیے اتنا کچھ کر کے بدلے
میں صرف ایک چیز چاہتے ہیں اور وہ ہے
"چار دیواری کا تقدس"
تاکہ محلے کی مسجد میں نمازیوں سے ملتے ہوئے ہمارا
سینہ چوڑا ہو نا کہ نظریں نیچی....♥🌸