
اپنے باطنی راز اور روحانی کیفیات ہر ایک کے سامنے ظاہر نہ کریں، کیونکہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص عہد اور تعلق کا راستہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل کے احوال، واردات اور مشاہدات کو حکمت اور احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھے۔
ہمارا راستہ رازداری، اخلاص اور پردہ پوشی کا راستہ ہے۔ اہلِ معرفت فرماتے ہیں کہ بعض روحانی انعامات کو چھپانا بھی شکر کا ایک طریقہ ہے، کیونکہ جو نعمت اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں عطا فرماتا ہے، اسے ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔
اپنے راز صرف اللہ تعالیٰ کے حضور رکھیں، کیونکہ وہی دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ اگر کسی رہنمائی کی ضرورت ہو تو کسی صاحبِ علم، صاحبِ حال اور امین رہبر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے، مگر روحانی احوال کو نمائش یا گفتگو کا موضوع نہ بنائیں۔
خاموشی، ادب اور اخلاص سالک کے راستے کے زیور ہیں۔ جو تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوتا ہے، وہ جتنا پوشیدہ رہتا ہے اتنا ہی پاکیزہ اور محفوظ رہتا ہے۔