
سات رنگی پہاڑ جن کا ذکر الله نے قرآن میں کیا !
دنیا میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پہاڑیاں مختلف رنگوں میں نظر آتی ہیں۔ چین کے ژانگیے ڈینکسیا (Zhangye Danxia) سے لے کر پیرو کے مشہور رینبو ماؤنٹین (Vinicunca) تک، یہ مناظر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان رنگ برنگے پہاڑوں کی طرف قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کی توجہ دلا دی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ راستے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں، اور کچھ گہرے سیاہ ہیں۔"
﴿سورۃ فاطر، آیت 27﴾
اس آیت میں اللہ تعالیٰ صرف پہاڑوں کا ذکر نہیں کرتا بلکہ ان کے مختلف رنگوں کا بھی ذکر کرتا ہے؛ سفید، سرخ اور گہرے سیاہ۔ آج ارضیات (Geology) ہمیں بتاتی ہے کہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ان میں موجود معدنیات کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
جہاں لوہے (Iron Oxide) کی مقدار زیادہ ہو وہاں چٹانیں سرخ یا نارنجی دکھائی دیتی ہیں۔
چونے (Limestone) والی چٹانیں سفید نظر آتی ہیں۔
بازلٹ اور آتش فشانی پتھروں سے بننے والے پہاڑ گہرے سیاہ دکھائی دیتے ہیں۔
اور جب لاکھوں بلکہ کروڑوں سال تک بارش، ہوا، درجۂ حرارت اور زمینی دباؤ مختلف معدنی تہوں کو تراشتے رہتے ہیں تو پہاڑوں پر ایسے رنگ ابھر آتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔
کچھ لوگ انہیں صرف سیاحتی مقام سمجھتے ہیں...
لیکن ایک مومن جب ان رنگوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے رب کی وہ آیت یاد آتی ہے جو صدیوں پہلے انسان کو دعوتِ فکر دے چکی تھی۔
یہ رنگ کسی انسان نے نہیں بھرے۔
یہ کسی مصور کی تخلیق نہیں۔
یہ اس رب کی صناعی ہے جس نے زمین کو بھی ایک کھلی کتاب بنایا تاکہ انسان اس میں غور کرے۔
قرآن بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین میں پھیلی نشانیوں پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ رنگ برنگے پہاڑ بھی انہی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ اس کائنات کا ایک حکیم خالق ہے، جس نے ہر پتھر، ہر رنگ اور ہر تہہ کو ایک خاص حکمت کے ساتھ بنایا۔
شاید اسی لیے جب انسان ان سات رنگی پہاڑیوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیمرہ تو صرف تصویر محفوظ کرتا ہے...مگر ایمان والے بولتے ہیں "سبحان الله "
#islamic #urdu #travel #touristattraction #mountains