← Back
🌍 GENERAL
5d ago

Last seen 57 minutes ago
رسمِ الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے
ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے
دل کی راہوں میں اُٹھاتے ہیں جو دُنیا والے
کوئی کہہ دے کہ وہ دیوار گرائیں کیسے
درد میں ڈوبے ہوئے نغمے ہزاروں ہیں مگر
سازِ دل ٹوٹ گیا ہو تو سنائیں کیسے
بوجھ ہوتا جو غموں کا تو اُٹھا بھی لیتے
زندگی بوجھ بنی ہو تو اُٹھائیں کیسے
وہ بھی رو دے گا اُسے حال سنائیں کیسے
موم کا گھر ہے چِراغوں کو جلائیں کیسے
دور ہوتا تو اُسے ڈھونڈ بھی لیتے فرازؔ
روح میںچُھپ کر جو بیٹھا اُسے پائیں کیسے
احمد فراز