← Back
🖋️ DEEP LINES
1w ago

Last seen 1 hour ago
اس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہے
میں جیوں گا تیرے بغیر بھی ____ مجھے زندگی کا شعور ہے
نہ ہوس مجھے مئے ناب کی، نہ طلب صبا و سحاب کی
تری چشم ناز کی خیر ہو، مجھے بے پیے ہی سرور ہے
جو سمجھ لیا تجھے با وفا تو پھر اس میں تیری بھی کیا خطا
یہ خلل ہے میرے دماغ کا _ یہ مری نظر کا قصور ہے
کوئی بات دل میں وہ ٹھان کے نہ الجھ پڑے تری شان سے
وہ نیاز مند جو سر بہ خم ____ کئی دن سے تیرے حضور ہے
مجھے دیں گی خاک تسلیاں __ تری جاں گداز تجلیاں
میں سوال شوق وصال ہوں، تو جلال شعلۂ طور ہے
میں نکل کے بھی ترے دام سے نہ گروں گا اپنے مقام سے
میں قتیلؔ تیغ جفا سہی _____ مجھے تجھ سے عشق ضرور ہے