
اہلِ مشاہدہ جانتے ہیں کہ جب اللہ اپنے کسی بندۂ خاص کو قرب کے سفر پر لے جانا چاہتا ہے تو پہلے اس کے گرد موجود تمام ظاہری سہارے آہستہ آہستہ اٹھا لیتا ہے۔ پھر اسے درد، فقر، تنہائی، بے بسی، بے قدری، بیماری، فاقہ اور مسلسل آزمائشوں کی ایسی بھٹی میں اتارتا ہے جہاں نفس کی ہر خواہش جل کر راکھ ہو جائے۔ اس مقام پر فقیر کی خاموشی مجبوری نہیں ہوتی، بلکہ رضا کی بلند ترین صدا ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر زخم محبوب کی ایک نئی تجلی ہے، ہر آنسو دل کے آئینے کی صفائی ہے، ہر محرومی ایک پوشیدہ عطا ہے، اور ہر مصیبت قربِ حق کی ایک نئی منزل ہے۔ پھر وہ شکوہ نہیں کرتا، کیونکہ اسے دکھ کے پیچھے دستِ رحمت اور آزمائش کے پردے میں جلوۂ محبوب دکھائی دیتا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر ساری دنیا اسے چھوڑ دے تو بھی وہ اپنے رب کی معیت میں خود کو تنہا نہیں پاتا۔ اس کے لیے درد بھی عبادت بن جاتا ہے، خاموشی بھی ذکر بن جاتی ہے، آنسو بھی سجدہ بن جاتے ہیں، اور فنا کے ہر لمحے سے بقا کی نئی خوشبو آنے لگتی ہے۔ یہی وہ باطنی کیفیت ہے جسے عقل نہیں سمجھ سکتی، صرف وہی دل جان سکتا ہے جسے اللہ نے اپنے نورِ معرفت سے زندہ کر دیا ہو۔
✍️