← Back
🌍 GENERAL
2w ago

Last seen 45 minutes ago
جو ہو سکے تو میّسر ہمیں تمام رہو،
قیام دل میں کرو اور یہیں مدام رہو۔
یہ کوئی بات کہ اِس کے ہوئے کبھی اُس کے،
ہمارے ہو تو سراسر ہمارے نام رہو۔
نہ رُت بدل کے ہمیں آزماؤ موسم کی طرح،
ہمارے ساتھ رہو اور صبح و شام رہو۔
تمہاری یاد سے روشن ہے دل کا ہر گوشہ،
چراغ بن کے مری بزم میں تمام رہو۔
نہ فاصلوں کی اجازت، نہ ہجر کا قصہ،
اگر قریب نہ آؤ تو کم از کم پیغام رہو۔
وفا کی شرط یہی ہے، بدل نہ جانا تم،
جو ایک بار کہو تو ہمیشہ عام رہو۔
ہے بس یہی خواہش ہے تم سے اے جاناں،
نہ نصف خواب رہو تم، نہ ادھورے کام رہو۔