← Back
🌍 GENERAL
3w ago

Last seen 26 minutes ago
اے عشق! ہمیں اتنا تو بتا، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
تقدیر بتا، اب اس سے بُرا انجام ہمارا کیا ہوگا؟
نادان چمن میں کلیوں نے لب کھول لیے ہنسنے کے لیے،
وہ پوچھ رہی ہیں شبنم سے، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
کشتی نہ رہی، ساحل نہ رہا، ساحل کی تمنا بھی نہ رہی،
اے پوچھنے والے! ظاہر ہے، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
بیکار ہوئے ہم رو رو کر، اب اشک بہانا کیا معنی؟
جب آنکھ ہی پتھرا جائے گی، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
ہم چھوڑ چلے دنیا والو! لو آج تمہاری دنیا کو،
اب تم ہی کہو اے دنیا والو، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
برباد تو خیر ہم ہو ہی چکے، اب اور ہمیں برباد نہ کر،
اس سے تو زیادہ اے ظالم، انجام ہمارا کیا ہوگا؟
قیسؔ! اب تو یہاں دم گھٹتا ہے، ویرانے میں چل کر بیٹھ رہیں،
جب بستی ہی بیگانوں کی ہو، انجام ہمارا کیا ہوگا؟