← Back
📜 URDU GHAZAL
1mo ago

Last seen 4 days ago
ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے
عجیب خوف میں ہم اس کے در سے لوٹ آئے
نہ ایسے روئیے ناکامی_محبت پر
خوشی منائیے زندہ بھنور سے لوٹ آئے
یہ سوچتے ہوئے بیٹھے ہیں راہ میں رک کر
اُدھر تو گئے ہی نہیں تھے جدھر سے لوٹ آئے
لب اس کے سامنے تھے اور ہم نے چوما نہیں
سمجھ لو پاؤں اٹھے اور در سے لوٹ آئے