
دیکھتے ہی دیکھتے دریا ڈوب گیا
۔
میری نگاہ کھڑکی سے واپس اسکی آنکھوں پر آئی تو وہاں ایک آنسو کو موجود پا کر ٹھٹک گئی۔ یوں لگا ساری کائنات کی گردش دھیمی ہوتے ہوتے رکنے کے قریب ہے۔ ستارے اور کہکشائیں جو نوری سالوں میں محو رفتار تھے رینگنے لگے ہیں۔ سیاروں کا گھومنا اور شہاب ثاقب کا گرنا روئی کے گالوں جیسا ہلکا ہو گیا ہے۔
۔
بس وہ ایک آنسو کشش ثقل کی تیزی کو روندتے ہوئے سفر میں ہے۔ آنکھ کنارے اٹکا آنسو اسکے جذبات کا سارا نمک سمیٹے بس کسی لمحے امنڈنے والا تھا۔ اس آخری ساعت میں جب وہ آنسو اپنے آپ میں جوبن پر تھا اور اپنے وجود میں بھر چکا تھا، میں نے دیکھا کہ میری پشت پر پھیلا سارا دریا، اس میں تیرتے ہنڈولے اور ان ہنڈولوں پر چک پھیریاں کھاتے پرندے سب سمٹ کر اس آنسو میں آ چکے ہیں۔
۔
میں اس کے آنسو میں سارا دریا دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً میرا جی چاہا کہ میں ہتھیلی پھیلا کر اس آنسو کو گرنے سے پہلے ہی تھام لوں۔ میرا جسم منظر کے سحر سے منجمد تھا اور میری خیالی ہتھیلی اس کی ٹھوڑی کے نیچے پھیل چکی تھی۔
تب دھیرے سے وہ اپنے مرکز سے ٹوٹا، اور اسکے گال پر بہتے ہوئے میری خیالی ہتھیلی سے گزر کر کافی کے کپ میں جا گرا۔
۔
آپ نے اکثر دریاؤں میں کشتیاں ڈوبتے دیکھی ہونگی، تب میں نے دریا کو ڈوبتے دیکھا۔
🙂