← Back
🌍 GENERAL
2mo ago

Last seen 1 day ago
ورنہ اسے تعزیر نہ زنجیر کا ڈر ہے
قیدی کو فقط زہر بجھے تیر کا ڈر ہے
مسمار کا خدشہ تو بہت بعد میں ، پہلے
اک کھوکھلی بنیاد پہ تعمیر کا ڈر ہے
جو مجھ کو ڈراتا ہے مری نیند میں اکثر
اس ایک برے خواب کی تعبیر کا ڈر ہے
اس گردشِ دنیا سے نکلتے ہوئے دل کو
کچھ دن سے فقط گردشِ تقدیر کا ڈر ہے
کم ظرف تھا وہ شخص جسے چوٹ دکھائی
اب مجھ کو مرے زخم کی تشہیر کا ڈر ہے
کومل جوئیہ