@malik_hamza_awan
May 2026 · 2mo ago

SHUKRIYA

THANK U

KIYA PAKAYA

NOI SUNAO

OR SUNAO

KII GAL A

MASHA'ALLAH

THULLU

KULLU

HABIBI

WALLAH

MERI BHII LIKE KAR DOO ROCKY

WALLAH

JHAPPI

TU AK BAAP KA HAI TO CHUPAIR OPTION ON KAR OFF Q KOYA HUA😅😅🤣🤣

KOI HAAI

JHAPPI

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظل الٰہی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی دیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہل کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے

تم اس خرابے میں چار چھ دن ٹہل گئی ہو
سو عین ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہو
تمام دن اس دعا میں کٹتا ہے کچھ دنوں سے
میں جاؤں کمرے میں تو اداسی نکل گئی ہو
کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ میں
خموش جنگل میں جیسے بندوق چل گئی ہو
یہ نہ ہو گر میں ہلوں تو گرنے لگے برادہ
دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہو
یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہو رہے ہیں
کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہو
ہمارا ملبہ ہمارے قدموں میں آ گرا ہے
پلیٹ میں جیسے موم بتی پگھل گئی ہو

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں
کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر
بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا
روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں
آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

BOHAT THENKU

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح
اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

SUB GHAYEB

RUK GAYE SUB

THANK U