@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

کیا فرشتے چلے گئے ہیں کاندھوں سے
کہ اب لوگ لوگوں کا حساب کرتے ہیں

مخلص ہو کر تو دیکھیں
آپ کا خلوص آپ کے منہ پر مار دیا جائے گا

دکھ کی بات تو یہ ہے چیزیں تو چیزیں ہیں
تعلقات بھی پرانے ہونے پر ختم ہونے لگتے ہیں

ہمارے جوتے بھی کچھ لوگوں کی
نیت سے زیادہ صاف ہوتے ہیں

کردے مجھے آزاد اس نفس کی لذتوں سے
تھک گیا ہے تیرا بندہ اس دنیا کے رنگوں سے

لوگوں کے رد عمل پہ غمزدہ ہونا چھوڑ دیں
ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق ہی بات کرتا ہے

یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے
کہ زندگی کی کشمکش میں کہیں کفن مہنگا نہ ہو جائے

میں نے بہت سے اپنوں میں
غیر دیکھے ہیں

کوئی بنتا نہیں بے کس کا سہارا اے دوست
پیڑ سوکھے ہوئے پتوں کو بھی گرا دیتا ہے

میت کو کندھا دے کر ہمدرد بن گئے
دوزخ بنا رکھی تھی جس نے زندگی

قبر کے اندر کی تیاری خود کرنی ہے
باہر سے لوگ ماربل لگا دیں گے

اپنے رویوں کے وجہ سے کچھ لوگ
ہمارے سینوں میں بنا کفن کے دفن ہیں

جو بھی سیکھا ہے اپنوں سے سیکھا ہے
دھوکا فریب چال بازی مكاری

نہ کوئی دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا ان کے پاس
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے

میں نے بہت قریب سے دیکھے ہیں
دل میں زہر رکھتے ہوئے شہد اُگلتے لوگ

کوئی بھی نہیں ہمارا اس مطلب کی دنیا میں
اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں غیروں کی کیا بات کہیں

شادی پر کھانے کا دو گھنٹے انتظار کرنے والی قوم
نماز کیلیے امام صاحب کا دو منٹ انتظار نہیں کرسکتی

میدان میں اترنا سیکھو تالیاں بجانے والے کی کوئی عزت نہیں کرتا

لوگوں نے سمجھایا کہ وقت بدلتا ہے
اور وقت نے سمجھایا کہ لوگ بھی بدلتے ہیں

جب بھی رہی دنیا کو شکایت ہی رہی مجھ سے
کبھی کچھ کہنے پہ کبھی چپ رہنے پہ

لوگ طویل رفاقت سے نہیں اپنی گہری تاثیر کی بنا پر یادوں میں رہتے ہیں

جسے موقع ملتا ہے پیتا ضرور ہے دوست
جانے کیا مٹھاس ہے غریب کے خون میں

آپ لوگوں کی بات کرتے ہیں میرے تو بالوں کے بھی دو منہ ہیں

جھڑپوں میں گزری شب کا احوال نہ بیاں ہو
ملتے ہیں جو شام کو وہ صبح بچھڑ جاتے ہیں

تھوڑا وقت گزرنے کی دیر ہوتی ہے
یہاں لوگ قبر تک کو بھول جاتے ہیں