@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

خاموشی نامناسب سوالوں کا بہترین جواب ہے اور مسکراہٹ ہر حالات کا بہترین رد عمل ہے

خاموشی نامناسب سوالوں کا بہترین جواب ہے اور مسکراہٹ ہر حالات کا بہترین رد عمل ہے

احساس ہو تو اجنبی بھی اپنے ہو جاتے ہیں اگر
احساس نہ ہو تو اپنے بھی اجنبی ہو جاتے ہیں

احساس ہو تو اجنبی بھی اپنے ہو جاتے ہیں اگر
احساس نہ ہو تو اپنے بھی اجنبی ہو جاتے ہیں

دھڑکنیں احساسات سے چلتی ہیں
احسانات سے نہیں چلتی
اس لیے جس سے جب تک رشتہ رکھیں
احساس کا رکھیں نہ کہ احسانات کا

دھڑکنیں احساسات سے چلتی ہیں
احسانات سے نہیں چلتی
اس لیے جس سے جب تک رشتہ رکھیں
احساس کا رکھیں نہ کہ احسانات کا

احساس ہميشہ نسل ديكھ کے كيجيئے
كيونكہ بكرياں ہميشہ سوكھا گھاس کھا كر ميٹھا دودھ ديتى ہے
اور سانپ ہميشہ ميٹھا دودھ پى كے بھى ڈس ليتا ہے

احساس ہميشہ نسل ديكھ کے كيجيئے
كيونكہ بكرياں ہميشہ سوكھا گھاس کھا كر ميٹھا دودھ ديتى ہے
اور سانپ ہميشہ ميٹھا دودھ پى كے بھى ڈس ليتا ہے

ﺍﺱ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﻻﺗﻌﻠﻘﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺎ ﮨﻮ

ﺍﺱ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﻻﺗﻌﻠﻘﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺎ ﮨﻮ

جب تک خود پر نہیں گزرتی احساس اور جذبات مذاق لگتے ہیں

جب تک خود پر نہیں گزرتی احساس اور جذبات مذاق لگتے ہیں

میرے دل کی امیدوں کا حوصلہ تو دیکھ
انتظار اس کا ہے جسے میرا احساس تک نہیں

میرے دل کی امیدوں کا حوصلہ تو دیکھ
انتظار اس کا ہے جسے میرا احساس تک نہیں

جس انسان کی جان نکل جائے
تو وہ زندہ نہیں رہتا اور
جس انسان سے احساس نکل جائے
تو پھر وہ انسان ہی نہیں رہتا

جس انسان کی جان نکل جائے
تو وہ زندہ نہیں رہتا اور
جس انسان سے احساس نکل جائے
تو پھر وہ انسان ہی نہیں رہتا

بے حسی شرط ہے جینے کیلئے
اور ہم کو احساس کی بیماری ہے

بے حسی شرط ہے جینے کیلئے
اور ہم کو احساس کی بیماری ہے

رشتے اور تعلق نبھانا ایک فن ہے
جس کے لئے دولت کی نہیں
محض احساس کی ضرورت ہوتی ہے

رشتے اور تعلق نبھانا ایک فن ہے
جس کے لئے دولت کی نہیں
محض احساس کی ضرورت ہوتی ہے

جب تمہیں کسی کا درد نظر آ رہا ہو اور تمہیں اس کا احساس نہ ہو تو سمجھ لو تم اندر سے مر چکے ہو

جب تمہیں کسی کا درد نظر آ رہا ہو اور تمہیں اس کا احساس نہ ہو تو سمجھ لو تم اندر سے مر چکے ہو

ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے
یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی

ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے
یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی

ﺁﻧﺴﻮ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﺟﻞ ﮔﺌﮯ
ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺑﺎﻝ ﮐﮯ