@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

زندگی آخر رلا ہی دیتی ہے پھر چاہے
آپ اپنے ماں باپ کی کتنے ہی لاڈلے کیوں نہ ہوں

اگر زندگی اتنی اچھی ہوتی
تو کوئی بھی دنیا میں روتے ہوئے نہ آتا

نہ ہارنا ضروری ہے نہ جیتنا ضروری ہے
یہ زندگی ایک کھیل ہے کھیلنا ضروری ہے

بنا دھاگے کے سوئی بن گئی ہے زندگی
گزرتی نہیں مجھ سے بس چبھتی جا رہی ہے

سزا تو بہت دی ہے زندگی نے مگر
افسوس یہ نہیں بتایا کہ قصور کیا تھا

فرق ہوتا ہے جاناں
زندگی جینے اور گزارنے میں

زندگی کیا ہے صاحب
آ کر نہا لیا نہا کر چل دیا

بچپن کی ایک غلط فہمی یہ بھی تھی
کہ بڑے ہو کر زندگی دلکش ہو جائے گی

زندگی جب دکھوں سے بھر جاتی ہے
پھر گزاری نہیں جاتی بس گزر جاتی ہے

بنا روئے تو پیاز بھی نہیں کٹتا
یہ تو پھر زندگی ہے

آہستہ چل اے زندگی کئی قرض چکانا باقی ہے
کچھ درد مٹانا باقی ہے کچھ فرض نبھانا باقی ہے

زندگی میں ملتا تو بہت کچھ ہے
بس ہم حساب اسی کا رکھتے ہیں جو نا مل سکا

زندگی اچھی پلاننگ کی وجہ سے نہیں
بلکہ اچھی سوچ کی وجہ خوبصورت اور دلچسپ بنتی ہے

خواہشیں جتنی طویل ہوتی ہیں
زندگی اتنی ہی پیچیدہ ہو جاتی ہے

مضبوط اور ثابت قدم رہو
زندگی ماں نہیں ہے جو ترس کھائے گی

عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھاتے گزری
زندگی نے مجھے اپنا کبھی ہونے نا دیا

اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا وجود اپنا
جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا

رولائے بغیر تو پیاز نہیں کٹتا صاحب
پھر تو یہ زندگی ہے ایسے کیسے کٹ جائے گی

بڑے ہی سخت تھے زندگی کے حادثے
زخم بھی کھائے ہم نے مرہم بھی ہمیں رکھنا پڑا

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے

زندگی جیسے جلانی تھی ویسے جلا دی ہم نے
اب دھوئیں پر بحث کیسی اور راکھ پر اعتراض کیسا

زندگی نے کچھ اس قدر ستایا ہے
مختصر خوشی دے کر مستقل رلایا ہے

سفر کا مزہ لینا ہو تو ساتھ سامان کم رکھیے
اور زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل میں ارمان کم رکھیے

موت تو یونہی بدنام ہے
تکلیف تو زندگی دیتی ہے

اے زندگی تو خود ہی بتا میں تجھ سے کیسے پیار کروں
تیری ہر ایک صبح میری زندگی کا ایک دن گھٹا دیتی ہے