@hooriakhan
Jul 2026 · 3w ago

ہر دن لگتا ہے آخری دن مجھے
مرتے مرتے بھی سالوں بیت گئے

ہائے اتنی سی عمر میں اتنے سارے تجربے
اے زندگی مجھے تھوڑا تو جینے دے

زندگی سب کچھ دے کر بھی
کسی نہ کسی چیز کے لئے فقیر بنا کر ہی رکھتی ہے

گزر رہی ہے اپنی زندگی تجربوں میں
ہر روز اک نیا سبق سیکھ رہے ہیں ہم

کل کا دن آج سے بہتر ہو گا
بس اسی بھروسے پر زندگی چل رہی ہے

مرنے سے کونسا دکھ ختم ہو جائیں گے
وہاں بھی پوچھی جائے گی وجہ زندگی برباد کرنے کی

انسان کو جینا آنا چاہیے
مر تو سب ہی نے جانا ہے

زندگی اس کچی پنسل کی طرح ہے
جو ہر روز چھوٹی ہوتی جاتی ہے

لڈو کی طرح ہوتی ہے زندگی چھ کی امید میں ایک بھی آجائے تو چلنا پڑتا ہے

زندگی سکھا رہی ہے آہستہ آہستہ
لوگ نیند کی گولیاں کیوں لیتے ہیں

عجیب طرح سے گزر رہی ہے زندگی
سوچا کچھ کیا کچھ ملا کچھ ہوا کچھ

ایک لاحاصل سی ہو گئی ہے زندگی اپنی
سفر بھی روز کا ہے اور جانا بھی کہیں نہیں

زندگی تو ہلکی پھلکی ہے
سارا بوجھ تو خواہشوں کا ہے

زندگی ایک انجان کتاب جیسی ہے
اگلے صفحہ پر کیا لکھا ہے کسی کو نہیں پتا

زندگی سے زیادہ محبت نہیں کرنی چاہیے
آخر میں سب سے حسین دھوکہ زندگی ہی دیتی ہے

زندگی کی مثال اس پنسل کی طرح ہے جو ہر روز چھوٹی ہوتی جاتی ہے

زندگی برف کی طرح ہے نیک کاموں میں گزارو
ورنہ پگھل تو رہی ہے ختم بھی ہو جائے گی

دو دن کی زندگی ہے اسے دو ہی اصولوں پر گزارو
رہو تو پھول کی طرح بکھرو تو خوشبو کی طرح

سب کچھ نہیں ملتا زندگی میں
کسی کا کاش تو کسی کا اگر رہ ہی جاتا ہے

زندگی ہر کوئی نہیں جیتا کچھ لوگ زندگی صرف گزارتے ہیں انہیں سانس لینے کے لیے ہزاروں بار مرنا پڑتا

زندگی اپنے حساب سے جینی چاہیے
او کے کہنے پر تو سرکس میں شیر بھی ناچتا ہے

زندگی بھی کیا عجیب چیز ہے
اک دن مرنے کے لیے پوری جینی پڑتی ہے

زندگی کو سمجھنا ہے تو پیچھے دیکھو
اور اگر زندگی جینا ہے تو آگے دیکھو

ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کر لی
اس طرح سے بسر زندگی کر لی

نادان بچپن گمراہ جوانی محتاج بڑھاپا
بے رحم موت بس یہی ہے زندگی