تمہاری یاد میری طرف لشکروں کی صورت میں وارد ہوتی ہے خاص کر رات کے سمے یا جیسے ہرن شیر سے ہے خبر رہتی ہے اچانک وہ اسے جھپٹ لیتا ہے میری گردن کو تمہاری یادیں اسی طرح دبوچ لیتی ہیں