← Back
🌍 GENERAL 1h ago
qamar_ansari's avatar
qamar_ansari (238480799)
Last seen 55 minutes ago

ابلیس سمندر پر قائم اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں غرور تھا، جیسے ابھی ابھی کوئی جنگ جیت کر آیا ہو۔
ہاتھ میں جام لئے وہ ہلکا سا مسکرایا اور خود سے مخاطب ہوا تھا ۔
اسی مٹی کے لیے...؟ اسی مٹی کے لئے مجھے ٹھکرایا تھا۔
کتنا ناز تھا تجھے اس پر۔ اشرف المخلوقات ... خلیفہ ارض ...
اتنے برے خطاب طنزیہ لہجے میں کہا تھا ۔ تیری سب سے محبوب مخلوق ہیں ؟ دیکھ...
صرف ایک زخم دیا ... اور یہ تیرے عدل پر سوال اٹھانے لگا۔
صرف ایک خواہش جگائی... اور یہ تیرے حکم بھول گیا۔
صرف ایک وسوسہ ڈالا... اور یہ اپنی ہی خواہشات کا قیدی بن بیٹھا۔
پھر الزام ؟ اپنے نفس کو نہیں۔ مجھے بھی نہیں۔ تجھے دیتا ہے۔
یہ تیرے قابل ۔ کبھی تھا ہی تھی ۔ آنکھوں میں ابلتی آگ نے جیسے شکوہ کیا ہو ۔
عجیب ہے تیرا انسان کا انسان گناہ اس کے آنسو اس کے ... فریاد بھی اس کی ... اور شکوہ بھی مجھ ہے۔
ابلیس خاموش ہوا، ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
میں اس مٹی کو خاک کر دو گا یہ اپنے وعدے سے مکرا ہے ۔ میں نھی آگ اب جوم رہی تھی ۔ حقیری انسان میری برابری کرے گا ۔ غرور انتہا پے تھا ۔
اب ابلیس کا منہ آسمان کی طرف تھا ۔ تیری ذات ہی اپنے سوال بنا دو گا _________________✨

💬 Conversation