← Back
🌍 GENERAL
3mo ago

Last seen 1 day ago
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے۔
جو محبتوں کے اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے ،
جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر۔
مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے،
مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے۔
میری عمر بھر جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے،
جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے۔
جو میری طلب میری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے،
میری دھڑکنوں کے قریب تھے میری چاہ تھے میرا خواب تھے۔
وہ جو روز و شب میرے پاس تھے
وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے،