← Back
🌍 GENERAL
2d ago

Last seen 5 hours ago
:غریب ادمی کی موت، امیر ادمی کی نسبت آسان ہوتی ہے اس لیے کہ غریب ادمی کو پتہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس کی ہوس ختم ہوتی ہےاس کے پاس چیز ہی کچھ نہیں ہے۔۔۔ تو امیر جب مرتا ہے تو وہ آپ کو کہتا ہے کہ ہائے۔۔۔ چاہے میرے بچے ہی لیں گے لیکن میں تو نہیں ہوں نا۔۔ میں تو گیا۔۔۔ تو افسوس سے چھوڑتا ہے اگر اس کو اللہ اختیار دے تو وہ کبھی موت کو قبول نہ کرے تو افلاس نے سخت موت اساں کر دی دولت کا نہ ہونا بھی بڑی دولت ہے