جا جا کے یہی سیکھا ہے اعداد کے پیچھے بس ایک ہی شخص ہوتا ہے تعداد کے پیچھے کتنے ہی برس پھونک دیئے ہم نے خوشی سے اے دل تیــرے بس ایک لمحـہِ آباد کـے پیچھے