چہرے پر سکون دل میں قیامت لیے بیٹھے ہیں ہم بھی اپنے اندر ایک جہان لیے بیٹھے ہیں لوگ سمجھتے ہیں ہمیں بے فکر اور خوش حال ہم تو ہر سانس میں اک امتحان لیے بیٹھے ہیں.