← Back
🌍 GENERAL 5d ago
dhoka's avatar
dhoka (341364)
Last seen 4 hours ago

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں
تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں
کہ میں بھی تم ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں

تو یہ بھی طے! کہ بچھڑ کر بھی لوگ جیتے ہیں
میں جی رہا ہوں اگرچہ جیا نہیں ہوں میں

کسی میں کوئی بڑا پن مجھے دکھائی نہ دے
خدا کا شکر کہ اتنا بڑا نہیں ہوں میں

مری اٹھان کی ہر اینٹ میں نے رکھی ہے
میں خود بنا ہوں بنایا ہوا نہیں ہوں میں

یہاں جو آئے گا وہ خود کو ہار جائے گا
قمار خانۂ جاں میں نیا نہیں ہوں میں

مرے وجود کے اندر مجھے تلاش نہ کر
کہ اس مکان میں اکثر رہا نہیں ہوں میں

میں ایک عمر سے خود کو تلاشتا ہوں مگر
مجھے یقین نہیں، ہوں بھی یا نہیں ہوں میں

میں اک گمان کا امکاں ہوں افتخارؔ مغل
کہ ہو تو سکتا ہوں لیکن ہوا نہیں ہوں میں

جنابِ افتخار مغل

💬 Conversation