← Back
🌍 GENERAL
2w ago

● Active now
شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
دل دشت میں ایک پیاس تماشا ہے کہ تم ہو
ایک لفظ جو بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
ایک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو
دروازہ بھی جیسے میری دھڑکن سے جڑا ہے
دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو
ایک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں
اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو
میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو