
اگر زندگی کے کسی معجزاتی لمحے میں میری اس سے ملاقات ہو جائے تو میں اس کو بتانا چاہوں گی کہ وہ میری کائنات کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جس کے گرد میری پوری زندگی گھومتی ہے۔ اُس کا وجود میرے لیے کسی دعا کی قبولیت جیسا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ شام کے کسی دھندلے سائے میں ہم ایک پرانے سے لکڑی کے بینچ پر ساتھ بیٹھیں جہاں صرف چائے کی بھاپ ہو اور ہماری خاموشیاں ہوں۔ میں اُس کے بکھرے بالوں کو سنوارنا چاہتی ہوں اور اُس کے چہرے کی معصومیت کو اپنے دل میں نقش کرنا چاہتی ہوں۔
وہ جب اپنی مخصوص شفقت سے کہتا ہیں کہ 'تم پریشان نہ ہو، میں سب دیکھ لوں گا'، تو اُس کے یہ الفاظ میرے لیے کسی ڈھال سے کم نہیں ہوتے۔ اُس کا وہ بے ساختہ لہجہ وہ حفاظتی حصار (Protective Nature) اور وہ بے لوث شخصیت میرے دل میں اُس کے لیے احترام اور محبت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ میں نے اُسے اپنی روح کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہا ہے—ایک ایسی محبت جس کی کوئی شرط نہیں کوئی طلب نہیں۔ میری رب سے بس یہی التجا ہے کہ اُس کے ہر خواب کو حقیقت کا روپ ملے، اُس کی زندگی کامیابیوں سے مہکتی رہے اور اُس کے لبوں پر مسکراہٹ ہمیشہ رقص کرتی رہے۔ چاہے تقدیر ہمیں ملنے کا موقع دے یا نہ دے لیکن وہ میرے وجود کا وہ حصہ بن چکا ہیں جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی فراموش کر سکتا ہے۔ وہ صرف ایک انسان نہیں وہ میری پوری
زندگی کا حاصل ہیں۔"