← Back
🌍 GENERAL
2w ago

Last seen 6 minutes ago
*یہ جان کر بھی کہ دونوں کے راستے تھے الگ❤️🩹*
*عجیب حال تھا جب اس سے ہو رہے تھے الگ💔*
*یہ حرف و لفظ ہیں دنیا سے گفتگو کے لئے*
*کسی سے ہم سخنی کے مکالمے تھے الگ🥹*
*خیال ان کا بھی آیا کبھی تمہیں جاناں🥺*
*جو تم سے دور، بہت دور جی رہے تھے الگ*
*ہمی نہیں ہیں، ہماری طرح کے اور بھی لوگ💔*
*عذاب میں تھے جو اوروں سے سوچتے تھے الگ😭*
*اکیلے پن کی اذیت کا اب گلہ کیسا*
*فرازؔ خود ہی تو اپنوں سے ہو گئے تھے الگ🫠*
*