
جب جدائی دماغ کو مار دیتی ہے
کبھی کبھی بچھڑنا دل کو نہیں توڑتا…
وہ سیدھا دماغ پر وار کرتا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں درد سینے میں ہوتا ہے،
مگر اصل تباہی تو وہاں ہوتی ہے
جہاں ہم سوچتے ہیں،
خواب بُنتے ہیں،
اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں—
ہاں، اسی دماغ میں۔ 🧠💔
جب کوئی اپنا چھوڑ کر جاتا ہے نا،
تو دماغ ایک لمحے میں خاموش نہیں ہوتا،
وہ آہستہ آہستہ جلتا ہے۔
یادیں ٹکراتی ہیں،
سوال چیختے ہیں،
اگر، مگر، کاش…
اور یہ سب مل کر اعصاب کو اس طرح نوچتے ہیں
کہ انسان خود سے ہی ڈرنے لگتا ہے۔ 😔
رات نیند نہیں آتی،
اور اگر آ بھی جائے
تو دماغ اسے قبول نہیں کرتا۔
سر کے اندر ایک مستقل شور،
جیسے کوئی ہتھوڑی مار مار کر
سوچوں کو کچل رہا ہو۔
سانس لیتے ہوئے بھی لگتا ہے
کہ کہیں دماغ پھٹ نہ جائے۔ 🕯️
یہ درد دل کا نہیں ہوتا،
یہ جسم کا بھی نہیں ہوتا—
یہ وہ اذیت ہے
جو امید کی جگہ پر جنم لیتی ہے۔
کوئی جاتا ہے
تو امید سسکتی ہے،
ٹوٹتی ہے،
اور دماغ کی شریانیں
اس بکھراؤ کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے
خاموشی سے جواب دے دیتی ہیں۔ 🖤
لوگ باہر سے دیکھ کر کہتے ہیں:
“زندہ ہو، سب ٹھیک ہے۔”
انہیں کیا معلوم
کہ کبھی کبھی انسان
محبت کے وزن تلے
اندر سے مر جاتا ہے،
اور بس ایک چلتی لاش بن کر رہ جاتا ہے۔ 🚶♀️
جدائی صرف دل نہیں توڑتی—
یہ دماغ میں ایسے گھاؤ چھوڑتی ہے
جو سوچ کو مفلوج کر دیتے ہیں،
احساس کو بے جان کر دیتے ہیں،
اور انسان کو ایسی خاموش موت دے دیتے ہیں
جو روز تھوڑا تھوڑا مارتی ہے۔ 🌑
لوگ کہتے ہیں:
“کسی کے جانے سے کون مر جاتا ہے؟”
اور میں سوچتی ہوں…
مرتے نہیں ہیں…
بس دماغ کی شریانیں
ٹوٹ ٹوٹ کر
انسان کو اندر ہی اندر
دفن کر دیتی ہیں۔ ⚰️🖤
📌 Caption
کچھ جدائیاں دل نہیں توڑتیں…
وہ دماغ میں ایسا زہر گھول دیتی ہیں
کہ انسان باہر سے زندہ
اور اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔ 🖤