← Back
🌍 GENERAL
2w ago

● Active now
کوئی بچھڑے تو _ اسے ہجر منانے دیجیے
گریہ کرتا ہے کرے، گائے تو گانے دیجیے
ہجر کا بوجھ ہے، الفاظ سے اٹھنے کا نہیں
رونے والوں کو تسلی نہیں، شانے دیجیے
مرشدا ___ لوگ تو مٹتے ہی چلے جاتے ہیں
مجھ پہ جو عشق میں گزری ہے، بتانے دیجیے
ہاں یہاں سب کو خبردار کیا جا چکا ہے
اب کوئی دشت میں آتا ہے تو آنے دیجیے
یہ جو بچھڑے ہیں، نہ ملنے کے لیے بچھڑے ہیں
کوئی خوش فہم بلائے تو _______ بلانے دیجیے
ابھی انجان ہیں، نادان ہیں نوواردِ دشت
حضرتِ عشق سے کہنا ہے کہ جانے دیجیے
مالکِ عصرِ ازل آپ کے شایاں تو یہ ہے
چند لمحے کوئی مانگے تو _____ زمانے دیجیے
جانتے ہیں شبِ ہجراں کی طوالت اشفاق
لوگ اندازے لگاتے ہیں __ لگانے دیجیے