
دُکھ یہ ہے میرے یوسف ویعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے باد ستم خیر تیری خیر کہ تونے
پنچھی وہ اڑائے جو اڑنے کہ نہیں تھے
یہ سوچ کے اس شوخ نے غیروں سےنبھائی
ہم لوگ فقط ہجر سے مرنے کے نہیں تھے
تیرا بھی گلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن
ہم عشق کہ سوا کچھ بھی تو کرنے کے نہیں تھے
اک وصل کی امید پہ فرقت میں تمہاری
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ حالات "تری خیر کہ تو نے"
وہ زخم بھرے ہیں کہ جو بھرنے کے نہیں تھے
تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا
چھوڑو یہ مرے زخم ہی بھرنے کے نہیں تھے
بھر ڈالا انہیں بھی مری بے دار نظر نے
جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا
آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
ان کو بھی اتارا ہے بڑے شوق سے ہم نے
جو نقش ابھی دل میں اترنے کے نہیں تھے
اے گردش ایام ہمیں رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہیں تھے
راکب مختار
خولہ//~🤍