← Back
🌍 GENERAL
3w ago

Last seen 9 minutes ago
کوئی بھی فیض نہیں دل میں درد رکھنے کا
کہ راس آئے گا اشکوں کا کاروبار کسے
غبارِ راہ میں بھٹکا ہوا _ مسافر تھا
یہ کہہ رہا تھا کہ منزل کا اعتبار کسے
نہ پوچھ، قافلے والوں کو کس نے لوٹا ہے
جرس کی آہ لگی تھی جو ناگوار _____ کسے
سنا ہے ہم نے اسے کوئی یاد آتا ہے
اشارتاْ وہ بلاتا ہے بار بار _____ کسے
اندھیری رات میں تاروں سے چھیڑ چھاڑ چلی
فلک پہ چاند نے رکھا تھا رازدار _____ کسے
جو پیلے پھول کھلیں، رت جوان ہوتی ہے
بھری بہار نے چھوڑا ہے سوگوار _ کسے💛