وہ بال گال آنکھیں وہ ڈمپل وہ تل وہ ہونٹ کیسے تجھے بتائے کہ کیا کیا فریب تھا تو جانتا نہیں ہے میرے یار کو ابھی اس کا تیرے فریب میں آنا فریب تھا