گرفتہ دل ہے بہت "شامِ شہرِ یاراں" آج کہاں ہے تُو کہ تجھے حال دلبرا لکھوں کہاں گیا ہے "مرے دل مرے مسافر" تُو کہ میں تجھے رہ و منزل کا ماجرا لکھوں