← Back
🥺 SAD POETRY
1mo ago

Last seen 2 days ago
یہ جو پیاس کی ہے شدت، ہے یہی عطائے صحرا
جو پڑے گلے میں کانٹے، یہی فصلِ تشنگی ہے
وہ گھنیری پلکیں اب بھی، شب و روز بھیگتی ہیں
جہاں یاس جاگتی ہے، جہاں آس سو گئی ہے
جو چراغ بجھ گیا ہے، سرِ شام میرے گھر کا
اُسے کیا خبر ہے پوری مجھے رات کاٹنی ہے
شب و روز ہی پریشاں، ہے عبید آج انساں
یہ جو مرگ ہر نفس ہے، یہی مرگِ زندگی ہے