← Back
🥺 SAD POETRY
1mo ago

Last seen 2 days ago
مطلب ہی اب نہیں کسی بات سے مجھے
اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں
انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر
آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں
ہم جھولیوں کو اپنی با سوزِ تصورات
ماضی کا وقت سنایا کروں گی میں
حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال
دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں
شکلین بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ
شکلین مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں