← Back
🥺 SAD POETRY
1mo ago

Last seen 2 days ago
اے دردِ عشق! تجھ سے مکرنے لگا ہوں میں
مجھ کو سنبھال! حد سے گزرنے لگا ہوں میں
پہلے حقیقتوں سے ہی مطلب تھا اور اب
ایک آدھ بات فرض بھی کرنے لگا ہوں میں
ہر آن ٹوٹتے عقیدوں کے یہ سلسلے
لگتا ہے جیسے آج بکھرنے لگا ہوں میں
اے چشمِ یار! میرا سُدھرنا محال تھا
تیرا کمال ہے کہ سُدھرنے لگا ہوں میں