
خالد ایک صاف دل اور خوش مزاج انسان تھا۔ جہاں جاتا، لوگوں کو ہنسا دیتا۔ کسی کا کام ہو تو فوراً مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا۔
مگر ایک وقت ایسا آیا کہ زندگی نے اسے سخت آزمائش میں ڈال دیا۔ گھر کے مسائل، مالی پریشانیاں، اور دل کے کچھ زخم... سب ایک ساتھ اس کے حصے میں آ گئے۔
عجیب بات یہ تھی کہ جو لوگ روز اس سے ملتے تھے، انہیں کچھ پتا ہی نہیں تھا۔ وہ اب بھی مسکراتا تھا۔ اب بھی دوسروں کو حوصلہ دیتا تھا۔ اب بھی پوچھتا تھا: "آپ سنائیں، سب خیریت ہے؟"
ایک دن ایک دوست نے ہنستے ہوئے کہا "خالد! یار تمہاری زندگی تو بڑی مزے میں گزر رہی ہے۔ تمہیں کبھی پریشان نہیں دیکھا۔"
خالد صرف مسکرا دیا۔ اس رات وہ اکیلا بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا "یا اللہ! لوگوں کو میری مسکراہٹ نظر آتی ہے، میرا بوجھ صرف تُو جانتا ہے۔"
وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک دن اس کے ایک قریبی دوست کو اس کی آزمائشوں کا پتا چلا۔ وہ حیران رہ گیا۔
اس نے کہا "خالد! تم نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟"
خالد نے پیار سے جواب دیا "ہر جنگ چیخ چیخ کر نہیں لڑی جاتی۔ کچھ جنگیں انسان خاموشی سے لڑتا ہے، اور ان میں صرف اللہ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔"🥹