
عمر اور عالیہ کالج میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ دونوں ذہین تھے، دونوں کے بڑے خواب تھے۔
مگر آہستہ آہستہ ان کی ساری توجہ پڑھائی سے ہٹ کر ایک دوسرے پر مرکوز ہو گئی۔
راتوں کو گھنٹوں چیٹنگ، کلاس میں ایک دوسرے کے خیال، امتحان کے دنوں میں بھی ناراضی، منانا اور جذباتی باتیں... انہیں لگتا تھا کہ یہی محبت ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ نتائج آئے تو دونوں کے مارکس پہلے سے بہت کم تھے۔
گھر والوں کا اعتماد بھی متاثر ہونے لگا۔
مگر وہ پھر بھی نہ سمجھے۔ چند سال بعد حالات بدل گئے۔ عمر کو نوکری نہ مل سکی، ویسے بھی اس کی تعلیمی بنیاد کمزور رہ گئی تھی۔
عالیہ کے کئی تعلیمی مواقع ضائع ہو چکے تھے اور سب سے بڑی بات... وہ دونوں بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہ سکے۔
زندگی کے دباؤ، حالات اور راستوں نے انہیں الگ کر دیا۔ ایک دن عالیہ نے اپنی پرانی ڈائری کھولی۔ اس میں ہزاروں پیغامات کی یادیں تھیں...
اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اسے احساس ہوا کہ جس عمر میں بنیاد مضبوط کرنی تھی، اس عمر میں وہ جذبات کے پیچھے بھاگتی رہی۔ اور عمر بےچارہ بھی کہیں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا "کاش ہم نے اس وقت اپنے مستقبل سے محبت کی ہوتی..."