
ایشال فاطمہ کی کہانی جھنگ کے انسپائر کالج سے جڑتی ہے۔ وہی کالج جہاں کبھی وہ خوشی خوشی داخلہ لینے آئی تھی، اب وہی اس کے لیے ڈر کا باعث تھا۔ وہاں ہر روز کوئی اسے بلیک میل کرنے والا، کوئی ہوس بھری نگاہوں سے دیکھنے والا موجود تھا۔
اس نے سب سے لڑنے کی ٹھانی، گھر والوں کو کچھ نہ بتایا، اور رول نمبر سلپ کے بہانے اس لڑکے سے آخری بار ملنے پہنچی۔
مگر وہاں شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔
اغوا، پھر جنسی زیادتی، پھر دوستوں کی دعوت، اور جب لڑکی میں کچھ نہ بچا — تو آدھی لاش ہسپتال کے باہر پھینک کر فرار۔
اے خلیل الرحمن، تیرا آنا جانا تھا… پر تو کیا تھا؟ محبت کا فریبی، یا ہوس کا تاجر؟
ایشال فاطمہ، بمشکل 17 سال کی نو عمر لڑکی، بارہویں کی طالبہ نے معاملہ سلجھانے کی غرض سے گھر سے باہر قدم رکھا۔ خلیل الرحمن نے اسے حسیب خان کی رشتہ دار کے گھر بلوایا، جہاں پہلے سے موجود تھے — امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ۔
وہاں کوئی محفل نہ تھی، کوئی دوستی نہ تھی… وہاں تو ڈانسنگ پِلز، طاقت ور ادویات، جنسی زیادتی کا بازار گرم تھا۔ ایشال کو زبردستی گولیاں کھلائی گئیں، خود بھی نشے میں دھت ہوئے، اور پھر دو دن تک اس بے بس بچی کی عصمت دری کرتے رہے۔
دو دن! دو دن وہ ٹکی اور گولیوں کے نشے میں جھومتی رہی، چلانے کی طاقت نہ رہی، بچنے کی امید نہ رہی۔ جب حالت نہ سنبھلی تو والد کی فریاد پر ایف آئی آر درج ہوئی۔
لیکن اس سے پہلے کہ قانون ہاتھ پاتا، ایشال کو مقامی ہسپتال میں چھوڑ کر یہ درندے بھاگنے لگے۔ خلیل گاڑی میں بیٹھا رہا، حسن اور امیش باہر آئے — اور تھوڑی دیر بعد… ایشال فاطمہ نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔
"تگڑے کو بچا لینا، غربے کو ٹپکا دینا… مجاز اداروں کو اپنے احوال درست کرنے ہوں گے۔"
یہ محض ایک کیس نہیں، ایک ایسی المیہ داستان ہے جس نے معاشرے کے چہرے سے نقاب چھین کر رکھ دیا۔ جھنگ کے حسین خواب، لاہور کی ٹھنڈی سڑکیں، اور پھر ایک ڈانس پارٹی کا اندھیرا کمرہ — جہاں معصومیت کو درندوں نے نہ صرف لتاڑا، بلکہ اسے زہر کی گولیوں اور جنسی وحشت کا نشانہ بنا کر آدھی لاش ہسپتال میں پھینک دی۔
اب گیند ادارے کی کورٹ میں ہے… انصاف مقدم رکھتا ہے یا تعلقات؟
⚔️ پولیس نے شیر غراتے ہوئے حملہ کیا، مگر پھر کیا ہوا؟
سی سی ڈی کے سب انسپکٹر ملک علی رضا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امیش جوگی کو دبوچ لیا۔ تمام صورتحال کھل گئی۔
اسد دھولکہ (انسپکٹر سی سی ڈی سٹی سرکل) اور حافظ عثمان ہراج (سب انسپکٹر) نے چھاپے مارے۔
ایس ایچ او ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کر لی۔
تین ملزمان جھنگ سے، اور خلیل الرحمن لاہور سے گرفتار۔
🐍 سی سی ڈی کا روایتی طریقہ — فل فرائی یا ہاف فرائی… مگر اس بار کیوں نہیں؟
سی سی ڈی اپنے ریکارڈ کے مطابق ایسے درندوں کو موقع پر ہی فل فرائی یا ہاف فرائی کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔
لیکن اس بار کچھ الگ ہوا — ملزمان متعلقہ تھانے پہنچا دیے گئے۔
کیوں؟
کیونکہ جوانوں کی سیاسی سلام دعا ان کو بچا رہی ہے۔ سی سی ڈی کے ہاتھوں سے چھین کر انہیں محفوظ ٹھکانوں پر پہنچایا جا رہا ہے۔
آہٹ Aahat