← Back
🌍 GENERAL
1mo ago

Last seen 1 month ago
آغازِ محبت تو بڑا قلبِ نشیں ہے
انجامِ محبت کی خبر مجھ کو نہیں ہے
یہ فیضِ محبت ہے، محبت کے تصدّق
میں اور کہیں ہوں، مرا دل اور کہیں ہے