← Back
🌍 GENERAL
1mo ago

Last seen 6 hours ago
بھرے جہاں میں کوئی میرا یار تھا ہی نہیں
کسی نظر کو میرا انتظار تھا ہی نہیں
نہ ڈھونڈئیے میری آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن
یہ دل کسی کے لئے بے قرار تھا ہی نہیں
سُنا رہا ہُوں محبت کی داستاں اُس کو
میری وفا پہ جسے اعتبار تھا ہی نہیں
قتیل کیسے ہواؤں سے مانگتے خوشبو
ہماری شام میں ذکرِ بہار تھا ہی نہیں