یوں تو ہر ایک کو شیطان سے ڈر لگتا ہے پر مجھ کو اس دور کے انسان سے ڈر لگتا ہے جس کی ہر بات میں پوشیدہ ہو نشتر کی چبھن ایسے ہر صاحب احسان سے ڈر لگتا ہے