دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے یہ سر اٹھائے جو میں جا رہا ہو جانبِ خلد میرے لیے میرے آقا نے بات کی ہوئی ہے