← Back
🖋️ DEEP LINES
1mo ago

Last seen 19 hours ago
ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
نہ جانے کس نے تہذیب کا جنازہ نکالا
ڈاکٹر کا چہرہ تیزاب سے جلایا
وہ جو مریضوں کا درد بانٹتی تھی
آج خود زخموں کی چادر اوڑھے ہے
اللہ نے آنکھیں بچا لیں، شکر ہے
پر دل کا زخم کون بھرے گا؟
اے ظالم! تیرے ہاتھ کانپے نہ ہوں گے؟
بیٹی کے چہرے پر تیزاب ڈالتے ہوئے؟
ماہ نور زندہ ہے، بیٹی ہے، بہن ہے
یہ قوم کی غیرت ہے، یہ ماں کی دعا ہے
کب تک جلے گی کوئی بیٹی؟ کب تک روئے گی کوئی ماں؟
اٹھو انسانو، اب تو غیرت جگاؤ!
اللّٰہ پاک ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو کامل صحت دے۔ آمین ثم آمین