
اک نادان لڑکی محبت لیے کھڑی تھی گویا اک حصار میں بندھی ہوئی چاہت ہو۔ کہیں دور سے آتا ہوا وہ اک مسافر چہرے پر دھول لیے ہوئے اس لڑکی کے حصار کے قریب آیا وہاں رکھے پھولوں کے پانی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پانی خوشبو دار تھا۔ جی چاہا چہرہ صاف کر لے۔ انجان مسافر انجام سے بے خبر پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جیسے ہی اسے چھوتا ہے۔ لڑکی کو احساس ہوا اسکے حصار میں کسی اجنبی کا سایہ پڑا ہے وہ تیوری چڑھائے غصہ لیے وارد ہوئی: "اجنبی!!! تمیں کس نے اجازت دی اسے چھونے کی یہ حصار محبت ہے، عہد وفا ہے، پیمانہ عشق ہے، یہاں مسافروں کی کوئی جگہ نہیں۔" اجنبی مسافر مسکرایا، ہلکی سی آواز میں کہا: "میں جانتا کہ مسافر ہوں، مسافت میرا عشق ہے، میں راستہ ہوں قدم میرا مقدر ہے، صرف تو ہی باغ عدن کا اک مچلتا ہوا شگوفا ہے، سنگدلی تیرے شہر کی مشہور ہے گویا روایت کوفہ ہے۔۔۔۔
💬 Conversation
