← Back
🌍 GENERAL
1mo ago

Last seen 1 day ago
تم تک جو سلسلے تھے رسائی کے کھو گئے
تم بھی کسی کے ہو گئے، ہم بھی کسی کے ہو گئے
ہم اپنے اپنے ہمسفر کے ساتھ خوش رہے مگر
درونِ دل ہمیشہ ایک دوسرے کا غم رہا
جہان بھر سے کٹ گئے ہم مگر
اُس ایک شخص سے رابطۂ باہم رہا
نہ گفتگو رہی نہ ملاقاتوں کے سلسلے
خاموشیوں میں بھی عجب ایک تعلق قائم رہا
کبھی جو رات ڈھل گئی تو یاد پھر سے آ گئی
وہی پرانی چاہتیں، وہی ادھورے سلسلے
نہ تم نے ہم کو بھلایا، نہ ہم تمہیں بھلا سکے
بس اپنے اپنے درد کو زمانے سے چھپا گئے
وہ ایک لمحۂ وصل بھی نصیب میں نہ تھا
مگر فراق کے موسم تمام عمر رہے